جہانزیب صدیق/
حالیہ دنوں میں پاک بھارت کشیدگی نے دونوں ممالک کے عوام اور حکومتوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اس تناؤ کے دوران بھارتی میڈیا کا کردار نہایت متنازعہ اور غیر پیشہ ورانہ ثابت ہوا۔ جھوٹی خبروں، سنسنی خیزی، اور بغیر تحقیق کے دعووں نے نہ صرف عوام میں خوف و ہراس پھیلایا بلکہ عالمی سطح پر بھارتی میڈیا کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔
غیر ذمہ دارانہ صحافت: بھارتی میڈیا نے بغیر کسی مستند ذرائع کے خبریں نشر کیں، جن میں پاکستان پر مختلف الزامات عائد کیے گئے۔ ان میں سے کئی دعوے بعد میں جھوٹے یا مبالغہ آمیز ثابت ہوئے۔ بعض اینکرز اور رپورٹرز نے جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ ایسے موقع پر جب صحافت کا فرض تھا کہ وہ عوام کو درست اور متوازن معلومات فراہم کرے، بھارتی میڈیا نے جذبات کو ہوا دینے والا رویہ اختیار کیا۔
سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل: بھارتی عوام کی ایک بڑی تعداد نے بھی میڈیا کے اس رویے پر تنقید کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگوں نے صحافتی اقدار کی پامالی، جھوٹی خبروں کی اشاعت اور جنگی جنون کو ہوا دینے کی مخالفت کی۔ ٹوئٹر پر “ShameOnIndianMedia” جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرتے رہے، جن سے یہ ظاہر ہوا کہ خود بھارت کے اندر بھی لوگ اپنے میڈیا کے رویے سے مطمئن نہیں۔
عالمی سطح پر تنقید: بین الاقوامی صحافتی اداروں اور مبصرین نے بھارتی میڈیا کی جانبدارانہ کوریج پر سخت تنقید کی۔ بی بی سی، الجزیرہ، نیویارک ٹائمز اور دیگر عالمی میڈیا ہاؤسز نے اپنی رپورٹس میں بھارتی چینلز کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو اجاگر کیا۔ اقوام متحدہ کے بعض نمائندگان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کو جنگی اشتعال انگیزی سے گریز کرتے ہوئے امن کو فروغ دینا چاہیے۔
ماہرین کی رائے: صحافت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا نے اپنے بنیادی اصول، یعنی “اطلاعات کی درستگی اور غیر جانبداری”، کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ معروف تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طرح کی کوریج نہ صرف امن کے عمل کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میڈیا کی ساکھ کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔
نتیجہ: موجودہ صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ میڈیا کا کردار صرف خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں، بلکہ وہ عوامی رائے سازی اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ بھارتی میڈیا کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ غیر ذمہ دارانہ صحافت صرف وقتی ریٹنگز تو لا سکتی ہے، لیکن طویل المدتی نقصان ناقابل تلافی ہوتا ہے۔
Your email address will not be published. Required fields are marked *
مذھب اسلام قبول کرنے کے بیس سال بعد حج کرنےکی آرزو پوری ہوئی.لوئس ابی رشید
میری کامیابی کا کریڈٹ پاکستانی قوم کو جاتاہے، ارشد ندیم
انڈیا کی ’پش بیک‘ پالیسی پر بنگلہ دیش برہم: مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کی زبردستی سرحد پار واپسی کا الزام
بین الافغان مذاکرات کے افتتاحی اجلاس میں کیا کیا ہوا؟
فیس بک کی جانب سے پاکستانی اکاؤنٹس اور ویب پیجز کا ایک ’منظم نیٹ ورک‘ معطل
کورونا سے متاثرہ سونگھنے کی حس سردی کے باعث بند ناک سے مختلف
من هنا : http://themeforest.net/item/goodnews-responsive-wordpress-new ...
Teetr ...
Nice ...
Awesome! ...
Very Nice Theme, I have no words to appreciate :) Weldon Team .... ke ...
2018 Powered By SANE Media Services By SANE Team