’وائرس سے بچ گئے تو مہنگائی مار دے گی، سکون تو بس قبر میں ہی ہے۔‘
یہ بات اسلام آباد کے ایک بڑے ڈپارٹمنٹل سٹور پر آئے ایک شہری نے اُس وقت کیشیئر سے کہی جب اُن کے مہینے کے راشن کا بِل ان کی توقع سے کہیں زیادہ آیا۔
ماہرین معیشت کہتے ہیں کہ عام آدمی کو ملکی قرضوں یا خسارے سے کوئی غرض نہیں وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ آٹے، چینی کی قیمت کیا ہے اور روزگار کے مواقع کتنے ہیں۔
شاید اسی لیے حکومتی وزیر فواد چودھری نے کچھ عرصہ قبل سوال کیا تھا ’کیا اس کارکردگی کے ساتھ ہم (پاکستان تحریک انصاف) آئندہ الیکشن میں جا سکتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیئے ’تین فیصد کی امید تھی، جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہی‘
پی ٹی آئی کے پہلے برس میں کیا قانون سازی ہوئی؟
‘پی ٹی آئی تبدیلی نہیں لا سکتی۔۔۔‘
قوم کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہم یہ جنگ جیتیں گے: عمران خان
YouTube پوسٹ نظرانداز کریں, 1
ویڈیو کیپشن,تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں YouTube پوسٹ کا اختتام, 1 اپنی دو دہائیوں پر محیط سیاسی جدوجہد اور اس سے پہلے بطور کرکٹر اور ملک میں کینسر کا جدید ہسپتال بنانے جیسے فلاحی منصوبوں پر کام نے عمران خان کو عوام میں مقبول تو بنایا مگر اس کے باوجود عموماً ان کی جماعت کی سنہ 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی کو فوج کے پلڑے میں ڈالا جاتا ہے اور حزب اختلاف کے رہنما اکثر پارلیمان میں بھی انھیں ’سیلیکٹڈ‘ کا خطاب دیتے نظر آتے ہیں۔
اپوزیشن اور حکومتی اراکین میں الزامات کا یہ سلسلہ پاکستان میں کم ہی رُکتا ہے۔ عمران خان کے اصل چیلنجز تو اِن کے معیشت، احتساب، طرز حکمرانی اور سفارت کاری کے شعبے سے متعلق وہ وعدے اور اعلانات ہیں جو ان کی انتخابی مہم اور منشور کا حصہ تھے۔
تحریک انصاف کی حکومت ان شعبوں میں کس حد تک کامیاب یا ناکام ہوئی یہ جاننے کے لیے ہم نے حکومتی امور پر نظر رکھنے والے چند ماہرین سے بات کی ہے۔
پیسہ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES ،تصویر کا کیپشن اس ماہ بیرون ملک پاکستانیوں نے ریکارڈ پیسہ پاکستان بھیجا ہے
معیشت ماہرین معیشت کہتے ہیں کہ عام آدمی کو معیشت سے متعلق اعداد و شمار، ملکی قرضے یا خسارے سے کوئی غرض نہیں، وہ صرف معیشت کو اشیائے ضرورت کی قیمتوں اور روزگار کے دستیاب مواقعوں کے پس منظر میں دیکھتا ہے۔
اگر یہی پیمانہ رکھا جائے تو ماہرین کے مطابق گذشتہ دورِ حکومت کے اختتام پر آٹے کی فی کلو قیمت 32 روپے تھی جو اب 52 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ اسی دورانیے میں چینی کی قیمت 55 روپے سے بڑھ کر 85 روپے ہو گئی ہے۔
حکومت کے سالانہ پلان کی رپورٹ برائے 2020-21 کے مطابق ملک میں بیروزگار افراد کی تعداد 40 لاکھ سے بڑھ کر 60 لاکھ ہونے کی توقع ہے۔
اسی بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے معاشی امور کے ماہر سہیل احمد کہتے ہیں کہ معیشت کے بڑے انڈیکیٹرز میں تو گراوٹ آئی ہے مگر آئندہ برس صورتحال کچھ بہتر ہو سکتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’دو سال میں معیشت کی حالت بہتر نہیں رہی اور جی ڈی پی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں آبادی مسلسل بڑھ رہی ہو اور اس میں جی ڈی پی نہ بڑھے تو یہ بہت بڑا سیٹ بیک ہے، مگر ہمیں اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ جب یہ حکومت میں آئے تھے تو یہاں فارن ایکسچینج کا بحران تھا اور ایکسٹرنل اکاؤنٹ پر دباؤ تھا۔
’حکومت نے اس سے نمٹنے میں کافی وقت لگایا، پوری معاشی ٹیم تبدیل کی گئی۔ آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ آیا تو معیشت میں کچھ بہتری آئی مگر اس کے ساتھ ہی معیشت کی یہ بحالی کورونا وائرس کے باعث متاثر ہونا شروع ہو گئی۔‘
کراچی،تصویر کا ذریعہREUTERS ،تصویر کا کیپشن کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے متعلق پاکستانی پالیسی کو کامیاب قرار دیا جا رہا ہے
وہ کہتے ہیں کہ یہ حوصلہ افزا ہے کہ ‘ایکسٹرنل اکاؤنٹ میں اب کسی حد تک بہتری آئی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ کورونا وائرس پر پاکستان نے دیگر ممالک سے جلدی اور بہتر انداز میں قابو پا لیا ہے اور یہاں شرح سود میں کمی کی گئی ہے اس لیے امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والا سال گذشتہ دو برسوں کی نسبت کچھ بہتر ہوگا۔‘
سرکاری دستاویزات کے مطابق ملک میں مارچ 2018 میں مجموعی قرضوں کی لاگت 230 کھرب 24 ارب روپے تھی۔ جو بڑھ کر مارچ 2020 میں 314 کھرب 52 ارب روپے ہو چکی ہے۔ اس سے پہلے 2015 میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں یہ قرضہ 159 کھرب 86 ارب روپے تھا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے قرضوں کا حصول ضروری تھا اور یہ کہ حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے کہ وہ پہلے سے حاصل کردہ قرضوں کی واپسی کے لیے نئے قرض حاصل کرے۔
گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران 29 ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کے بیرونی قرضے لیے گئے ہیں۔ جن میں سے 26 ارب 20 کروڑ ڈالر قرض وزیرِ اعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں حاصل کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق حاصل کردہ قرضوں میں سے 19 ارب 20 کروڑ ڈالر کی رقم پہلے سے حاصل کردہ قرضوں کی واپسی کے لیے استعمال کی گئی۔
اسی بارے میں بات کرتے ہوئے تجزیہ کار فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی کے پیشِ نظر حکومت کے لیے نئے قرضوں کا حصول ناگزیر تھا، لیکن معیشت سے متعلق حکومت نے اگر کوئی اچھا کام کیا ہے تو وہ بیرونی تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا۔
پاکستان کی معیشت ایک ‘باؤنسی رائڈ’ ہے،تصویر کا ذریعہEPA ،تصویر کا کیپشن پاکستان کی معیشت ایک ’باؤنسی رائڈ‘ ہے
اُن کے بقول ’تجارتی خسارہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں 20 ارب ڈالر تھا جو تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سال میں 10 ارب ڈالر تک لایا گیا اور اب یہ خسارہ تقریباً تین ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ جو ایک بڑی کامیابی ہے۔‘
فرخ سلیم کہتے ہیں کہ عام آدمی حکومتی قرضوں یا خسارے کو نہیں دیکھتا بلکہ عام آدمی کے لیے یہ اہمیت رکھتی ہے کہ اس کی اشیائے ضرورت اس کی دسترس میں ہیں یا نہیں، اور ماہرین کے مطابق اس سطح پر عوام حکومت سے نالاں نظر آتی ہے۔
بی بی سی نے عام آدمی کے حالات سے متعلق یہی سوال جب وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز سے کیا تو انھوں نے کہا کہ ’عام آدمی کا فائدہ یہی ہے کہ بنیادی ضرورت کی اشیا یعنی آٹا، چینی وغیرہ مارکیٹ میں موجود ہوں اور ان کی ذخیرہ اندوزی نہ ہو اور یہی ہماری کوشش ہے کہ ہم مارکیٹوں میں ان اشیا کی دستیابی میں خلل نہ آنے دیں تاکہ مافیا ذخیرہ اندوزی نہ کر سکیں۔‘
شبلی فراز نے کہا کہ ’وقت کے ساتھ ہماری کارکردگی بہتر ہو رہی ہے۔ لیکن چھڑی گھمانے سے کچھ نہیں بدلتا، گزشتہ حکومتوں نے نہایت منظم انداز میں اداروں کو تباہ کیا ہے، اب ہم ریفارمز لا رہے ہیں، اور جلد حالات میں مزید بہتری آئے گی۔‘
مہنگائی،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES ،تصویر کا کیپشن مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور یہی اس حکومت کے لیے سب سے بری خبر ہے
وہ کہتے ہیں کہ معاشی استحکام کے لیے بڑے پیمانے پر کوشش کی گئی ہے۔ ‘فسکل ڈیفیسٹ کو کم کیا گیا ہے، کورونا وائرس کے باوجود جولائی میں برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اگر ہم وہ صورتحال دیکھیں جس میں ملک ہمیں ملا تھا تو ہم نے بہت بہتر کام کیا ہے۔ جب معیشت کا جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ بھی دیکھیں کہ ٹیکس کی مد میں اکٹھے کیے گئے پیسے کا پچاس فیصد تو قرضے اتارنے کے لیے چلا جاتا ہے۔‘
تجزیہ نگار حسین عسکری نے بھی بی بی سی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹریڈ ڈیفیسٹ میں کمی لانا حکومت کی کامیابی ہے کیونکہ حکومت نے درآمدات کو کنٹرول کیا ہے۔ ’اس کے علاوہ پاکستان کا بین الاقوامی قرضوں میں ڈیفالٹ کا خطرہ ٹالا گیا ہے اگرچہ ایسا باہر سے مزید قرضے لے کر کیا گیا ہے اور اس سے قرضوں میں اضافہ بھی ہوا۔ جبکہ کورونا کے معاملے پر بھی حکومت نے اطمینان بخش کارکردگی دکھائی ہے۔ مگر عام آدمی سے جڑے معاملات جیسا کہ قیمتوں پر قابو پانا، میں حکومت ناکام نظر آتی ہے۔‘
کیا سفارتکاری کامیاب رہی؟ ان دو برسوں میں پاکستان کو سفارتی سطح پر بھی بڑے چیلنجز کا سامنا رہا۔
عمران خان نے حکومت میں آتے ہی انڈیا کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا مگر پلوامہ اور پھر بالاکوٹ حملے اور لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کے درمیان شدید تناؤ نے تعلقات کو بدترین سطح پر پہنچا دیا۔ رہی سہی امید اس وقت دم توڑ گئی جب انڈیا نے یکطرفہ طور پر اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔
پاکستان کے وزیر اعظم نے عالمی سطح پر اس معاملے کو اٹھایا اور کئی ماہرین اسے پی ٹی آئی کی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ہی کشمیر کے معاملے پر او آئی سی کا اجلاس طلب کروانے میں ناکامی اور بیشتر مسلم ممالک کی جانب سے اس معاملے پر کھل کر پاکستان اور کشمیر کے حق میں بیانات نہ آنا ایک سفارتی ناکامی کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی عرب کے نائب وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے ہمراہ،تصویر کا ذریعہREUTERS ،تصویر کا کیپشن پاکستان کے درینہ دوست سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر اب تناؤ دکھائی دے رہا ہے
حال ہی میں سعودی عرب سے متعلق وزیر خارجہ کے بیان کو جہاں کئی حلقوں کی جانب سے سفارتی آداب کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے، وہیں متعدد ماہرین سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب خاص لائن سے ہٹ کر اپنے مفادات کی جانب بتدریج بڑھ رہی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تجزیہ کار رؤف حسن کہتے ہیں کہ ’پہلے کہا جاتا تھا کہ پاکستان نے خود کو مشرق وسطیٰ کی گود میں رکھا ہے اور اس بارے میں ہر حال میں ان ممالک خاص طور پر سعودی عرب کے حمایت ملکی مفادات سے الگ ہو کر کی جاتی ہے۔ مگر چند برس پہلے خصوصاً یمن کے معاملے کے بعد اس میں کسی حد تک تبدیلی آنا شروع ہوئی ہے۔ یہ سوال کیا جاتا تھا کہ پاکستان متوازن خارجہ پالیسی کیوں اختیار نہیں کر پاتا۔ اب ہم اسی جانب بڑھ رہے ہیں۔ مگر اس میں خاصا وقت لگے گا۔‘
Your email address will not be published. Required fields are marked *
مذھب اسلام قبول کرنے کے بیس سال بعد حج کرنےکی آرزو پوری ہوئی.لوئس ابی رشید
میری کامیابی کا کریڈٹ پاکستانی قوم کو جاتاہے، ارشد ندیم
انڈیا کی ’پش بیک‘ پالیسی پر بنگلہ دیش برہم: مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کی زبردستی سرحد پار واپسی کا الزام
بین الافغان مذاکرات کے افتتاحی اجلاس میں کیا کیا ہوا؟
فیس بک کی جانب سے پاکستانی اکاؤنٹس اور ویب پیجز کا ایک ’منظم نیٹ ورک‘ معطل
کورونا سے متاثرہ سونگھنے کی حس سردی کے باعث بند ناک سے مختلف
من هنا : http://themeforest.net/item/goodnews-responsive-wordpress-new ...
Teetr ...
Nice ...
Awesome! ...
Very Nice Theme, I have no words to appreciate :) Weldon Team .... ke ...
2018 Powered By SANE Media Services By SANE Team