گذشتہ سال سنہ 2019 میں نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں 51 افراد کو قتل کرنے والے شخص کا تیسری مسجد کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تھا۔ یہ بات سزا کے لیے جاری سماعت کے دوران سامنے آئی ہے۔
ملزم برینٹن ٹارنٹ کا مساجد کو نذر آتش کرنے کا بھی منصوبہ تھا اور وہ ‘زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک’ کرنا چاہتا تھا۔
آسٹریلوی شہری ٹارنٹ کے خلاف 51 قتل، 40 اقدامِ قتل اور دہشت گردی کی مقدمے ہیں اور وہ ان میں ملوث ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
29 سالہ ٹارنٹ کو عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ نیوزی لینڈ میں اس سے پہلے کبھی اتنی سخت سزا نہیں عائد کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کرائسٹ چرچ: ‘نیوزی لینڈ آپ کے ساتھ سوگوار ہے، ہم ایک ہیں’
کرائسٹ چرچ حملے کا نشانہ بننے والے کون تھے؟
نعیم رشید نے حملہ آور کو روک کئی جانیں بچائیں
’تارکینِ وطن کو اب بھی تھوڑا سا خوف ہے‘
ان حملوں کی کچھ فوٹیج ٹارنٹ نے براہ راست سوشل میڈیا پر بھی نشر کی۔ ان حملوں سے جس سے پوری دنیا میں صدمے کی لہر دوڑ گئی تھی اور اس کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کو اپنے بندوق کے قوانین میں تیزی سے تبدیلیاں کرنی پڑیں۔
رشتہ دار دور سے سماعت میں شریک ہوئے اس مقدمے کی سماعت پیر کی صبح کرائسٹ چرچ میں ہی شروع ہوئی۔ کووڈ 19 پابندیوں کی وجہ سے مرکزی عدالت کا کمرہ نسبتاً خالی تھا۔
کرائسٹ چرچ کے لا کمپلیکس کے اندر سات اضافی عدالتی کمروں کو حملے میں بچ جانے والوں اور ان کے لواحقین کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جن میں سے بہت سے لوگ اگلے تین دن تک جاری رہنے والے مقدمے میں اپنے بیانات دیں گے۔
سرکاری وکیل بارنابی ہیوس نے عدالت کو بتایا کہ حملہ آور نے کئی سال پہلے سے ہی یہ منصوبہ تیار کرنا شروع کر دیا تھا اور اس کا ہدف ‘زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کرنا’ تھا۔
متاثرین،تصویر کا ذریعہEPA ،تصویر کا کیپشن حملے میں بچنے والے اور مرنے والوں کے لواحقین سماعت کے لیے پیر کو عدالت پہنچے
اس نے نیوزی لینڈ کی مساجد کے بارے میں معلومات جمع کیں، عمارتوں کے فلور پلان حاصل کیے، محل وقوع اور دوسری تفصیلات کا مطالعہ کیا تاکہ انھیں اُس وقت نشانہ بنایا جائے جب وہاں سب سے زیادہ رش ہو۔
حملے سے کچھ ماہ قبل وہ کرائسٹ چرچ گیا اور اپنے بنیادی ہدف النور مسجد کے اوپر ڈرون اڑاتا رہا۔
النور مسجد اور لن ووڈ اسلامک سینٹر کے علاوہ اس کا ایشبرٹن مسجد کو بھی نشانہ بنانے کا منصوبہ تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ حملے کے دن ٹارنٹ نے النور مسجد سے بھاگنے کی کوشش کرنے والے افراد کو سڑک پر گولی مار دی۔
اس کا ایک شکار انسی علی باوا بھی تھے۔ مسجد سے گاڑی لے کر نکلتے ہوئے ملزم نے ان کو کچل دیا تھا۔
جب وہ لن وڈ اسلامک سینٹر کی طرف بڑھا تو اس نے گاڑی روک کر افریقی نژاد افراد کو گولی مار دی جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اس نے تھوڑی دیر کے لیے ایک سفید فام شخص پر بھی اپنی بندوق تانی تھی لیکن پھر ‘مسکرا کر آگے نکل گیا۔’
ٹارنٹ نے گرفتاری کے بعد پولیس کو بتایا کہ اس کا منصوبہ حملے کے بعد مساجد کو نذر آتش کرنا تھا۔
ٹارنٹ نے اس سے قبل اپنے پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی اور اپیل کو واپس لینے سے قبل اسے جون میں مقدمے کا سامنا تھا۔ وہ عدالت میں اپنی نمائندگی خود کر رہے ہیں۔
انھیں کم سے کم 17 سال قید کی سزا کا سامنا کرنا ہوگا، لیکن اس مقدمے کی سماعت کرنے والے ہائی کورٹ کے جج جسٹس کیمرون مینڈر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ بغیر کسی پیرول کے انھیں عمر قید کی سزا سنائیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل نیوزی لینڈ میں کبھی ایسی سخت سزا نہیں دی گئی ہے۔
اگلے کچھ دنوں میں ذاتی طور پر متاثر ہونے والے 60 سے زائد افراد بیانات دیں گے۔ کچھ تو بیرون ملک سے سفر کرکے نیوزی لینڈ پہنچے ہیں اور مقدمے میں شرکت کرنے سے پہلے وہ دو ہفتے قرنطینہ میں رہ چکے ہیں۔
Brenton Tarrant during sentencing at the High Court in Christchurch،تصویر کا ذریعہEPA ڈاکٹر حمیمہ تویان، جن کے شوہر زکریا تویان النور مسجد میں گولی لگنے کے قریب سات ہفتوں کے بعد انتقال کر گئے تھے، سماعت کے لیے سنگاپور سے وقت پر روانہ ہوئيں تاکہ قرنطینہ میں وقت گزارنے کے بعد وہ بروقت عدالت میں حاضر ہوں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس بارے میں متزلزل تھیں کہ آیا وہ ان پر مرتب ہونے والے اثرات لکھیں جو کہ ٹارنٹ کے سامنے پڑھے جائیں گے۔ انھیں یہ خدشہ تھا کہ اس سے اُس کی ‘نرگیسیت کو تقویت ملے گی’ لیکن حتمی طور پر انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسا ہی کریں گی۔
سینکڑوں دوسرے لوگ شہر کے دوسرے کمرہ عدالت میں براہ راست نشر کی جانے والی ویڈیو فیڈز پر مقدمے کے سماعت دیکھ سکیں گے۔ یہ انتظامات سماجی دوری پر عمل کرنے کے سلسلے میں کیے گئے ہیں۔
فائرنگ کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے ایک کے مقابلے 119 ووٹوں سے فوجی طرز کے نیم خودکار ہتھیاروں پر پابندی عائد کرنے کے متعلق اصلاحات کے ساتھ ساتھ ایسے پرزوں کے بنانے پر بھی پابندی کو منظوری دی جنھین ممنوعہ آتشیں اسلحہ بنانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہو۔
حکومت نے بائی بیک سکیم کے تحت نئے غیر قانونی اسلحے کے مالکان کو معاوضے کی پیش کش کی تاکہ ان کا ہرجانہ پورا ہو سکے۔
Your email address will not be published. Required fields are marked *
مذھب اسلام قبول کرنے کے بیس سال بعد حج کرنےکی آرزو پوری ہوئی.لوئس ابی رشید
میری کامیابی کا کریڈٹ پاکستانی قوم کو جاتاہے، ارشد ندیم
انڈیا کی ’پش بیک‘ پالیسی پر بنگلہ دیش برہم: مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کی زبردستی سرحد پار واپسی کا الزام
بین الافغان مذاکرات کے افتتاحی اجلاس میں کیا کیا ہوا؟
فیس بک کی جانب سے پاکستانی اکاؤنٹس اور ویب پیجز کا ایک ’منظم نیٹ ورک‘ معطل
کورونا سے متاثرہ سونگھنے کی حس سردی کے باعث بند ناک سے مختلف
من هنا : http://themeforest.net/item/goodnews-responsive-wordpress-new ...
Teetr ...
Nice ...
Awesome! ...
Very Nice Theme, I have no words to appreciate :) Weldon Team .... ke ...
2018 Powered By SANE Media Services By SANE Team