مشکوک افراد سے روابط کے الزام میں پابندی کا سامنا کرنے والے پاکستانی کرکٹر عمر اکمل کی اپیل پر ان پر عائد تین سالہ پابندی کی مدت کم کر کے ڈیڑھ برس کر دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج فقیر محمد کھوکھر نے بدھ کے روز لاہور میں سنایا، جو اس معاملے میں آزاد منصف کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ سماعت کے موقع پر عمر اکمل بھی موجود تھے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے رواں برس 20 فروری کو پاکستان سپر لیگ کے آغاز کے موقع پر عمراکمل کو مشکوک افراد سے روابط کے الزام پر معطل کر دیا تھا۔ بعدازاں کرکٹ بورڈ کے ڈسپلنری پینل نے ان پر تین برس کے لیے کرکٹ سے متعلق کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی تھی۔
عمر اکمل پر عائد تین سالہ پابندی کا آغاز 20 فروری 2020 سے ہوا تھا اور سزا میں کمی کے بعد اب یہ پابندی اگست 2021 میں ختم ہو جائے گی۔
سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر اکمل نے ان کی اپیل سننے والے جج کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اُن کے وکیل کے مؤقف کو اچھی طرح سُنا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں اور مستقبل قریب میں پابندی کی مدت میں مزید کمی کے لیے دوبارہ اپیل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے
کیا ایسے ختم ہو گی عمر اکمل کی کہانی؟
پاکستان کرکٹ کے ’بیڈ بوائے‘ پھر مشکل میں
عمر اکمل پر ’مشکوک رابطے‘ رکھنے پر تین سال کی پابندی عائد
پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ نے عمراکمل کے سامنے اُن کے مشکوک افراد سے روابط کی تفصیلات رکھی تھیں۔
مواد دستیاب نہیں ہے
YouTube مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.
YouTube پوسٹ کا اختتام, 1
عمراکمل کو بتایا گیا تھا کہ انھوں نے دو مختلف مواقع پر مشکوک افراد سے ملاقاتیں کی تھیں اور کسی بھی موقع پر انھوں نے اس بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور اینٹی کرپشن یونٹ کو مطلع نہیں کیا۔
عمر اکمل نے اس معاملے کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن ٹریبونل کے سامنے چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے انضباطی پینل کو بھیج دیا گیا تھا اور عمراکمل سے کہا گیا تھا کہ وہ 27 اپریل کو پینل کے سامنے پیش ہوں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈسپلنری پینل کے سربراہ جسٹس (ریٹائرڈ ) فضل میراں چوہان نے دو اپریل کو مختصر سماعت کے بعد عمر اکمل پر کرکٹ سے متعلق کسی بھی قسم کی سرگرمی میں حصہ لینے پر تین سال کی پابندی عائد کر دی تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی کا کہنا تھا کہ عمر اکمل کو اپنی صفائی پیش کرنے کا بہت موقع دیا گیا لیکن وہ مبہم انداز میں وضاحت پیش کرتے رہے۔
آٹھ مئی کو پابندی کے بارے میں تفصیلی فیصلہ سامنے آیا تھا، جس میں جسٹس (ریٹائرڈ) فضل میراں چوہان نے لکھا کہ عمراکمل نے اس پورے معاملے میں نہ تو ندامت کا اظہار کیا اور نہ ہی معافی مانگی۔ انھوں نے اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ سے بھی تعاون نہیں کیا۔
یاد رہے کہ عمر اکمل اپنے پورے کریئر کے دوران مختلف نوعیت کے تنازعات میں ملوث رہے ہیں۔
Your email address will not be published. Required fields are marked *
مذھب اسلام قبول کرنے کے بیس سال بعد حج کرنےکی آرزو پوری ہوئی.لوئس ابی رشید
میری کامیابی کا کریڈٹ پاکستانی قوم کو جاتاہے، ارشد ندیم
انڈیا کی ’پش بیک‘ پالیسی پر بنگلہ دیش برہم: مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کی زبردستی سرحد پار واپسی کا الزام
بین الافغان مذاکرات کے افتتاحی اجلاس میں کیا کیا ہوا؟
فیس بک کی جانب سے پاکستانی اکاؤنٹس اور ویب پیجز کا ایک ’منظم نیٹ ورک‘ معطل
کورونا سے متاثرہ سونگھنے کی حس سردی کے باعث بند ناک سے مختلف
من هنا : http://themeforest.net/item/goodnews-responsive-wordpress-new ...
Teetr ...
Nice ...
Awesome! ...
Very Nice Theme, I have no words to appreciate :) Weldon Team .... ke ...
2018 Powered By SANE Media Services By SANE Team