سُشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خود کشی کے معاملے میں ممبئی پولیس پیشہ وارانہ دشمنی کے زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے اور اس بارے میں پولیس نے اب تک کئی لوگوں سے پوچھ گچھ بھی کی ہے۔
اس ہفتے فلمساز سنجے لیلی بھنسالی نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا جس کے بعد پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ بھنسالی سُشانت سنگھ کے ساتھ چار فلمیں کرنا چاہتے تھے لیکن سوشانت کے پاس وقت یا ڈیٹس نہ ہونے کے سبب یہ فلمیں کسی اور کو دے دی گئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اب اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہے کہ سوشانت سنجے لیلی بھنسالی کی فلمیں کیوں نہیں کر پائے اور دوسرے پروڈکشن ہاؤسز کے ساتھ ان کے معاہدوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس اب تک سوشانت کے گھر والوں اور ان کے قریبی دوستوں سمیت 38 لوگوں کے بیان لے چکی ہے۔
’سوشانت سنگھ کی بہن شویتا سنگھ کا ان کے نام خط‘
بالی وڈ میں اقربا پروری کا سرغنہ کون ہے
’سوشانت آج زندہ ہوتے تو شائقین دل بیچارہ کے ٹریلر کو سستی لو سٹوری قرار دیتے‘
اسی ہفتے سُشانت سنگھ کی آخری فلم ’دل بیچارہ‘ کا ٹریلر رلیز ہوا تو ایک بار پھر ان کی موت کا زخم ان تمام لوگوں کے دل میں پھر سے تازہ ہو گیا جو شاید حقیقی زندگی میں سُشانت سے کبھی نہ ملے ہوں یا ان کے قریب رہے ہوں۔
ایک بار پھر سوشل میڈیا پر سلمان خان سے لے کر عالیہ بھٹ، سونم کپور، ایکتا کپور اور سب سے بڑھ کر کرن جوہر کو کوسنے دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
کرن جوہر کے ایک قریبی دوست نے ویب سائٹ بالی وڈ ہنگامہ کو بتایا کہ کرن کو جس طرح سوشل میڈیا پر اقربا پروری کی علامت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور جس طرح انھیں بے دردی سے ٹرولنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس سے انھیں بہت تکلیف پہنچی ہے اور وہ جیسے بکھر کر رہ گئے ہیں۔
بالی ووڈ میں اگر اقربا پروری کی بات کی جائے تو کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو بالی ووڈ کے بادشاہ امیتابھ بچن کے بیٹے ابھشیک بچن آج بالی وڈ کِنگ ہوتے نہ کہ شاہ رخ خان، جو دلی سے نکل کر ممبئی کی اس مایا نگری کے بے تاج بادشاہ بن گئے ہیں۔
دیگر مثالیں تو رنویر سنگھ ،دپیکا پادوکون، پرینکا چوپڑہ اور اقرا پروری کے خلاف میدان جنگ میں موجود بالی وڈ میں جھانسی کی رانی کہی جانے والی کنگنا رناوت کی بھی دی جا سکتی ہیں جنہوں نے باہر سے آکر انڈسٹری میں زبردست کامیابی حاصل کی، یعنی محنت اور قسمت دونوں نے ان کا ساتھ دیا۔
مرحوم اداکار عرفان خان کے بیٹے بابیل بھی آج کل انسٹا گرام پر کافی سرگرم ہیں اور اکثر اپنے پاپا کی تصاویر کے ساتھ ان کی باتیں اور نصیحتیں پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔
اس بار انھوں نے عرفان خان کے ساتھ اپنے بچپن کی تصویر کے ساتھ ایک طویل پوسٹ لکھی ہے جس میں انھوں نے بالی ووڈ کی مبینہ خراب روایات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ عالمی سنیما میں بالی ووڈ کا ذکر شاذو نادر ہی ہوتا ہے۔
بابل خان کا، جو لندن کی ایک یونیورسٹی سے فلم میکنگ پڑھ رہے ہیں، کہنا ہے کہ عالمی سنیما میں نوے کی دہائی کے انڈین سنیما کے بارے میں کوئی آگاہی نہیں ہے اور آج فلم کے نام پر جو لوگوں کو دکھایا جاتا ہے وہ حقیقت سے دور ہے۔ بابل کے مطابق ایسا اس لیے ہے کیونکہ انڈین ناظرین اپنی سوچ اور ذوق بدلنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے والد نے اپنی تمام زندگی اداکاری اور فن کے معیار کو بلند کرتے گزار دی لیکن حقیقت سے دور ان فلموں میں جنس پرستی، پدرشاہی سوچ اور فوٹو شاپ آئیٹم سانگز کے ساتھ جملے بازی کرتے سِکس پیک ایبس والے ہنکس نے باکس آفس پر میرے پاپا کو شکست دی ہے۔‘
تاہم بابیل کو لگتا ہے کہ بالی وڈ کی نئی نسل ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے جو ان روایات میں تبدیلی ضرور لائے گی۔
Your email address will not be published. Required fields are marked *
مذھب اسلام قبول کرنے کے بیس سال بعد حج کرنےکی آرزو پوری ہوئی.لوئس ابی رشید
میری کامیابی کا کریڈٹ پاکستانی قوم کو جاتاہے، ارشد ندیم
انڈیا کی ’پش بیک‘ پالیسی پر بنگلہ دیش برہم: مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کی زبردستی سرحد پار واپسی کا الزام
بین الافغان مذاکرات کے افتتاحی اجلاس میں کیا کیا ہوا؟
فیس بک کی جانب سے پاکستانی اکاؤنٹس اور ویب پیجز کا ایک ’منظم نیٹ ورک‘ معطل
کورونا سے متاثرہ سونگھنے کی حس سردی کے باعث بند ناک سے مختلف
من هنا : http://themeforest.net/item/goodnews-responsive-wordpress-new ...
Teetr ...
Nice ...
Awesome! ...
Very Nice Theme, I have no words to appreciate :) Weldon Team .... ke ...
2018 Powered By SANE Media Services By SANE Team