00:00 01:31 Quality
اسلام آباد(الصفوت نیوز تازہ ترین) ملکی عدالتی نظام باقاعدہ طور پر پہلی مرتبہ جدید خطوط پر استوار ہو گیا، اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت کی۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ ملکی تاریخ میں پہلی بار ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت کر رہا ہے اور اعلیٰ عدالت کو 4 مقدمات کی سماعت بذریعہ ویڈیو لنک کرنا ہے۔
ابتدائی طور پر ای مقدمات کی سہولت اسلام آباد ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے لیے دستیاب ہے۔
‘ای’ کورٹ سے سائلین پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑے گا، چیف جسٹس پاکستان۔ فوٹو: جیو نیوز اسکرین گریب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آئی ٹی کمیٹی کے ممبران جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مشیر عالم کو خراج تحسین پیش کیا اور چیئرمین نادرا اور ڈی جی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ ایک بڑا قدم ہے، ‘ای’ کورٹ سے کم خرچ سے فوری انصاف ممکن ہو سکے گا، دنیا بھر میں پاکستان کی سپریم کورٹ میں ہی ‘ای’ کورٹ سسٹم کا پہلی مرتبہ آغاز ہوا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ‘ای’ کورٹ سے سائلین پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑے گا، اس سسٹم کو پورے پاکستان تک پھیلائیں گے اور اگلے مرحلے میں کوئٹہ رجسٹری میں ای کورٹ سسٹم شروع کریں گے۔
ای کورٹ سسٹم کے پہلے مقدمے کی سماعت
سپریم کورٹ اسلام آباد سے کراچی رجسٹری میں ویڈیو لنک کے ذریعے قتل کیس کے ملزم نور محمد کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی جس کے دوران ملزم کے وکیل یوسف لغاری ایڈووکیٹ نے درخواست پر دلائل دیے۔
عدالت نے قتل کے ملزم نور محمد کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی جس کے خلاف پولیس اسٹیشن شاداب پور میں 2014 میں قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔
سپریم کورٹ اسلام آباد میں زیرسماعت مقدمے میں کراچی رجسٹری سے وکلا دلائل دے رہے ہیں۔ فوٹو: جیو نیوز اسکرین گریب چیف جسٹس پاکستان نے کہا ‘عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم افراد نے قتل کیا، اس کیس کے نامزد ملزمان اس واقعے میں ملوث نہیں اور مقامی پولیس نےکیس کی تفتیش میں بدنیتی کا مظاہرہ کیا’۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا شریک ملزمان غلام حسین اور غلام حیدر پہلے ہی ضمانت پر ہیں۔
سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست کا تاخیر سے فیصلے پر چیف جسٹس نے نوٹس بھی لے لیا اور کہا کہ 2014 میں وقوعہ ہوا، ٹرائل کورٹ نے 2016 میں ضمانت خارج کی اور سندھ ہائیکورٹ نے 2016 سے 2019 تک درخواست ضمانت کا فیصلہ نہیں کیا، اس طرح کے معاملات ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف ہیں۔
عدالت نے سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو ہدایت کی کہ وہ ہائیکورٹ کے فیصلےکی کاپی لیں جب کہ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے ججز کی ضمانت اپیلوں کی فیصلوں سے متعلق 2 ہفتوں میں رپورٹ بھی طلب کرلی۔
چیف جسٹس نے کہا رپورٹ چیئرمین جوڈیشل کونسل کو 2 ہفتوں میں بھیجیں تاکہ مناسب اقدام کیا جائے۔
ای کورٹ کے دوسرے مقدمے کی سماعت
سپریم کورٹ نے اقدام قتل کے 2 ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں خارج کردیں جس کے بعد سندھ پولیس نے کراچی رجسٹری سے ارباب اور مشتاق نامی ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے ‘قتل کی نیت کرنا بھی جرم ہے، دفعہ 324 میں ارادہ قتل سے حملہ کرنے کی سزا 10 سال ہے، حملے کے نتیجے میں اگر زخم آئے تو اس کی سزا الگ ہوگی۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا اقدام قتل کا کیس قتل سے زیادہ سخت ہوتا ہے، حملہ آور کی نشاندہی زخمی کرسکتا ہے مقتول نہیں
Your email address will not be published. Required fields are marked *
مذھب اسلام قبول کرنے کے بیس سال بعد حج کرنےکی آرزو پوری ہوئی.لوئس ابی رشید
میری کامیابی کا کریڈٹ پاکستانی قوم کو جاتاہے، ارشد ندیم
انڈیا کی ’پش بیک‘ پالیسی پر بنگلہ دیش برہم: مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کی زبردستی سرحد پار واپسی کا الزام
بین الافغان مذاکرات کے افتتاحی اجلاس میں کیا کیا ہوا؟
فیس بک کی جانب سے پاکستانی اکاؤنٹس اور ویب پیجز کا ایک ’منظم نیٹ ورک‘ معطل
کورونا سے متاثرہ سونگھنے کی حس سردی کے باعث بند ناک سے مختلف
من هنا : http://themeforest.net/item/goodnews-responsive-wordpress-new ...
Teetr ...
Nice ...
Awesome! ...
Very Nice Theme, I have no words to appreciate :) Weldon Team .... ke ...
2018 Powered By SANE Media Services By SANE Team