اسلام آباد(الصفوت نیوز) بدھ کو چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی قاتلانہ حملہ کیس کی سماعت کی ، خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملے کے ملزم شاہ حسین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھا۔چیف جسٹس آصف سعید نے استفسار کیا کیاملزم شاہ حسین کمرہ عدالت میں موجودہے، جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ شاہ حسین کمرہ عدالت میں موجود ہے۔دوران سماعت وکیل خدیجہ صدیقی نے دلائل میں کہا ہائیکورٹ نے مقدمہ کےمکمل شواہدکونہیں دیکھا، خدیجہ صدیقی کی بہن بھی بطورگواہ پیش ہوئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا دیکھناچاہتےہیں ہائیکورٹ کا نتیجہ شواہدکے مطابق ہے۔خدیجہ صدیقی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خدیجہ صدیقی ملزم کی کلاس فیلوتھی، ملزم شاہ حسین نےخدیجہ پرخنجرکے23وارکیے،خدیجہ کی گردن پربھی 2وارکیے، ڈاکٹرز کے مطابق جب خدیجہ کواسپتال لایاگیاخون بہہ رہاتھا۔ چیف جسٹس کھوسہ نے ریمارکس میں کہا خدیجہ صدیقی ملزم کوجانتی تھی وہ کلاس فیلوبھی تھے، اس کےباوجودملزم کو5 دن کےبعدنامزدکیاگیا۔ جس پر وکیل خدیجہ صدیقی نے بتایا حملے کے وقت خدیجہ صدیقی حواس میں نہیں تھی، خدیجہ نےڈاکٹر کوبھی اجنبی قراردیاتھا، شاہ حسین نےارادےکےساتھ صرف خدیجہ پرخنجرسےحملےکیے، شاہ حسین نے کار کے ڈرائیور پر حملہ نہیں کیا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے مزید کہا خدیجہ کی بہن حملے کے وقت حواس میں تھی، ملزم کو تاخیر سے مقدمے میں نامزدکیوں کیاگیا، خدیجہ کی بہن نے بھی ملزم کی نشاندہی میں تاخیر کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا خدیجہ کولگےہوئےزخم کتنےگہرےہیں تو وکیل خدیجہ نے بتایا 12زخم 2 سینٹی میٹرز کے تھے، جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا خدیجہ کی گردن کےاگلےحصےپرکوئی زخم نہیں تھا، خدیجہ معاملے پر بول سکتی تھی۔وکیل نے مزید بتایا کہ خدیجہ حملےکےبعدحواس میں نہیں تھی ، ڈاکٹرزکےمطابق خدیجہ کی حالت خطرےمیں تھی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ بات طے ہے اسپتال میں خدیجہ بات کررہی تھی، ڈاکٹرز خدیجہ سے سوال کررہے تھے تو سرجن نے انہیں باہر نکال دیا، خدیجہ نے ڈاکٹرز کو بتایاکہ حملہ آور لڑکاہے۔خدیجہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ خدیجہ کی حالت کےپیش نظرتفتیشی افسربیان ریکارڈنہیں کرسکا، جس پر چیف جسٹس نے کہا خدیجہ صدیقی نے پہلے دن ملزم کانام نہیں بتایا، خدیجہ نے ملزم کا نام 5 دن بعدبتایا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا گاڑی سے2بال ملے تھے کیا ان کا ڈی این اے ہوا، جس پر خدیجہ صدیقی کے وکیل نے بتایا بالوں کو فرانزک لیب بھجوانے کا کہاگیا تھا، فرانزک لیب کے بقول انہیں بال موصول نہیں ہوئے۔جسٹس آصف سعید نے کہا خطےکی بہترین اوردنیاکی دوسری بہترین فرانزک لیب لاہورمیں ہے، پنجاب فرانزک لیب پرہمیں فخرہوناچاہیے، فرانزک لیب میں دنیاکےماہرترین افرادموجودہیں، کیس میں ہائی پروفائل کالفظ کئی مرتبہ استعمال ہوا۔چیف جسٹس نےاستفسار کیا کیا ہائی پروفائل کیلئےقانون بدل جاتاہے، جرم جرم ہوتاہےہائی پروفائل ہویالوپروفائل ہو، جس پروکیل خدیجہ صدیقی نے بتایا ہائی کورٹ نے شواہدکا درست جائزہ نہیں لیا، جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے مزید استفسار کیا ملزم آخرخدیجہ کوکیوں مارناچاہتاتھا، ملزم چاہتا تو خدیجہ کو ایسی جگہ مارسکتاتھاجہاں کوئی نہ ہوتا۔ خدیجہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ ریکارڈپرایسی کوئی بات نہیں اقدام قتل کی وجہ کیاہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا گولی مارناآسان لیکن خنجر مارنا شدید اشتعال پرہوتاہے، عام طورپرقتل کی وجہ ہوتی ہےمیری نہیں توکسی کی نہیں، دوسری عمومی وجہ لڑکی کی طرف سےبلیک میلنگ ہوتی ہے، خدیجہ کےکیس میں دونوں وجوہات سامنےنہیں آئیں۔پنجاب کےپراسیکیوٹرنےخدیجہ کےوکیل کےتمام دلائل اپنالئے اور ملزم شاہ حسین کی سزاختم کرنےکی مخالفت کردی۔سپریم کورٹ نے طالبہ خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ہائیکورٹ کافیصلہ کالعدم قرار دے دیا جبکہ ملزم شاہ حسین کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔
Your email address will not be published. Required fields are marked *
مذھب اسلام قبول کرنے کے بیس سال بعد حج کرنےکی آرزو پوری ہوئی.لوئس ابی رشید
میری کامیابی کا کریڈٹ پاکستانی قوم کو جاتاہے، ارشد ندیم
انڈیا کی ’پش بیک‘ پالیسی پر بنگلہ دیش برہم: مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کی زبردستی سرحد پار واپسی کا الزام
بین الافغان مذاکرات کے افتتاحی اجلاس میں کیا کیا ہوا؟
فیس بک کی جانب سے پاکستانی اکاؤنٹس اور ویب پیجز کا ایک ’منظم نیٹ ورک‘ معطل
کورونا سے متاثرہ سونگھنے کی حس سردی کے باعث بند ناک سے مختلف
من هنا : http://themeforest.net/item/goodnews-responsive-wordpress-new ...
Teetr ...
Nice ...
Awesome! ...
Very Nice Theme, I have no words to appreciate :) Weldon Team .... ke ...
2018 Powered By SANE Media Services By SANE Team