خیبر پختونخواہ کے ضلع باجوڑ میں حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں تین بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد محکمہ انسداد پولیو کے سات افسران کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا ہے۔ضلع باجوڑ کے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ برخاست کیے جانے والے افراد میں عالمی ادارہ صحت کے دو افسران، ایم ایس ایف کے دو اہلکار اور محمکمہ صحت باجوڑ کے تین اہلکار شامل ہیں۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان محسود نے بتایا کہ ان اہلکاروں کو اپنی ذمہ داریوں میں غفلت برتنے پر نوکری سے نکالا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے بقول ان اہلکاروں نے پہلے یہ ظاہر کیا تھا کہ متاثرہ گھر میں صرف تین بچے ہیں، لیکن جب پولیو کے کیس سامنے آئے تو معلوم ہوا کہ مذکورہ گھر میں بچوں کی تعداد بارہ تھی۔ محمد عثمان محسود کا کہنا تھا کہ ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ’یہ لوگ علاقے میں گئے ہی نہیں تھے‘۔انہوں نے کہا کہ باجوڑ گذشتہ چھ برسوں سے پولیو فری علاقہ رہا ہے اور کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔ ان کے مطابق باجوڑ میں حکومتی رٹ قائم ہے اور کہیں بھی کوئی ’نو گو ایریا‘ نہیں ہے جبکہ محکمہ صحت کو ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی اہلکاروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ ڈپٹی کشمنر نے واضح کیا کہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ باجوڑ(الصفوت نیوز)پولیو پروگرام کے لیے وزیراعظم کے معاون یا فوکل پرسن بابر عطا نے بھی ایک ٹویٹ میں سات اعلیٰ عہدیداروں کی برطرفی کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’کیونکہ کچھ افسران نے پولیو کے انکاری والدین کے متعلق تفصیلات ہم سے چھپائیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ باجوڑ کی ساری ٹیم ہی نااہل ہے۔ کیونکہ کچھ افسران نے پولیو کے انکاری والدین کے متعلق تفصیلات ہم سے چھپائیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ باجوڑ کی ساری ٹیم ہی نااہل ہے-ملیے اس زبردست ٹیم سے جس نے باجوڑ کو ساڑھے چھ سال پولیو سے پاک رکھا- مجھے یقین ہے کہ بہت جلد باجوڑ دوبارہ پولیو سے پاک علاقوں کی صف میں کھڑا ہو گا.خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پشاور میں دو پولیو ٹیموں کو جعلی اعداد و شمار مرتب کرنے اور پولیو ویکسین ضائع کرتے ہوئے پکڑلیا گیا تھا جس کے بعد دونوں ٹیموں کے 29 افراد کو ملازمتوں سے برطرف کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی اضلاع میں ماضی میں پاکستانی طالبان کی طرف سے پولیو کے قطرے پلانے والے اہلکاروں کو اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور اب تک سینکڑوں ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ سنہ 2014 میں اس وقت کے فاٹا سے پولیو کے 179 کیس رپورٹ ہوئے تھے، تاہم سنہ 2015 میں 16 اور 2016 میں صرف دو واقعات رپورٹ ہوئے۔ اعداد وشمار کے مطابق 2014 میں پاکستان میں پولیو کے 306 واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعداد کم ہو کر 2015 میں 35، 2016 میں 20، 2017 میں 8 جبکہ 2018 میں 3 ہو گئی اور یہ تینوں واقعات صوبہ بلوچستان کے ضلع دُکی میں سامنے آئے تھے۔
Your email address will not be published. Required fields are marked *
مذھب اسلام قبول کرنے کے بیس سال بعد حج کرنےکی آرزو پوری ہوئی.لوئس ابی رشید
میری کامیابی کا کریڈٹ پاکستانی قوم کو جاتاہے، ارشد ندیم
انڈیا کی ’پش بیک‘ پالیسی پر بنگلہ دیش برہم: مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کی زبردستی سرحد پار واپسی کا الزام
بین الافغان مذاکرات کے افتتاحی اجلاس میں کیا کیا ہوا؟
فیس بک کی جانب سے پاکستانی اکاؤنٹس اور ویب پیجز کا ایک ’منظم نیٹ ورک‘ معطل
کورونا سے متاثرہ سونگھنے کی حس سردی کے باعث بند ناک سے مختلف
من هنا : http://themeforest.net/item/goodnews-responsive-wordpress-new ...
Teetr ...
Nice ...
Awesome! ...
Very Nice Theme, I have no words to appreciate :) Weldon Team .... ke ...
2018 Powered By SANE Media Services By SANE Team